ناول دیوار...قسط 5

ناول

Cover artwork for ناول دیوار...قسط 5
SHORT STORIES

ہاں آوء کیوں نہیں پلاتی ہوں چائے تمہیں.
شام کا وقت تها لینا اکیلی صحن میں بیٹهی چائے پی رہی تهی اور اوپر اڑتی چڑیوں کو دیکه رہی تهی اسی وقت ساحل وہاں آگیا اور اسنے لینا سے پوچها کیا میں یہاں بیٹه سکتا ہوں لینا نے اسکی طرف دیکها اور پهر بولی ہاں بیٹه جاوء ساحل بیٹه گیا اس نے سے کہا لینا کیا تمہارا مبائیل نمبر مل سکتا ہے
لینا:کیوں تمہیں کیا ضرورت؟
ساحل:ضرورت ہے تبہی تو مانگ رہا ہوں جب یہاں سے چلا جاونگا تو رابطہ کیسے ہوگا..لینا:امی کا نمبر ہے نا خالہ کے پاس
ساحل:اف لینا مجهے تمہارا نمبر چاہیئے میں جانتا ہوں کے خالہ کا نمبر ہے پر میں تمہیں کال میسج کرنے کے لیئے تمہارا نمبر مانگ رہا ہوں پلیز یار میں تمہارا کزن ہوں
لینا مان گئی اور اس نے ساحل کو نمبر دے دیا ساحل بولا جانتی ہو میں نے امی سے شادی کی بات کی اور انہوں نے خالہ سے اب تم سے خالہ شاید پوچهیں گی ویسے میں بہت خوش ہوں
لینا:شاید نہیں یقینا پوچهینگی میری مرضی
ساحل:آج تم یونیورسٹی نہیں گئی کیا؟
لینا:نہیں کل جاونگی پهر چهٹیاں ہیں چند چلو میں امی کا ہاته بٹانے جاتی ہوں اوکے ساحل اوکے لینا جانے لگی تو ساحل نے روکا ..لینا...لینا رک گئی اور اس نے مڑ کر دیکها پوچها"جی کیا؟"
ساحل مسکرایا بولا آئی لو یو
لینا مسکرائی اور شرما کر چلی گئی.
رات کا وقت تها لینا سونے کی تیاری کر رہی تهی اسی وقت سیرت کمرے میں آئی اور لینا کو دیکهتے ہی بولی چلو اچها ہے کے تم سوئی نہیں
لینا:کیوں امی خیر ہے؟
سیرت:ہاں بیٹا بلکل خیر ہے بس تم سے ایک ضروری بات کرنی ہے..لینا سنتے ہی سمجه گئی اور دل ہی دل میں بولی ضرور ساحل کے رشتے کے بارے میں بات کرنی ہوگی سیرت بولی کہاں کہو گئی بیٹا لینا مسکراتے ہوئے بولی کہیں نہیں امی آپ بولیں کیا بات ہے؟
سیرت لینا کو بیڈ پر بٹهاتے ہوئے بولی دراصل بیٹا آج تمہاری خالہ نے ساحل کیلئے مجه سے تمہارا ہاته مانگا ہے اور میں تمہاری مرضی جاننا چاہتی ہوں کیا تمہیں ساحل پسند ہے؟
لینا: امی پہلے آپ اپنی مرضی بتائیں؟
سیرت:ارے بیٹا تم جانتی ہو ساحل اپنا ہی بچہ ہے مجهے کیسے پسند نا ہوگا اسی لیئے تو تم سے پوچه رہی ہوں کے تم کیا چاہتی ہو آپا تو جلد ہی رسم کرنے کا بهی کہ رہی ہیں لیکن میں نے کہا کے لینا کی مرضی جان لوں
لینا: امی آپکی مرضی میری مرضی ہے یقینا آپ میرے لیئے بہتر فیصلہ ہی کرینگی پر مجهے فورا شادی نہیں کرنی میں ماسٹرز کے بعد ہی شادی کرونگی ابهی نہیں
سیرت:جیتی رہو بیٹا میں جانتی تهی تمہارا جواب چلو میں ان سے بات کرونگی اور وہ مان بهی جائنگی چلو اب تم آرام کرو صبح سکول بهی جانا ہے تم نے.
لینا:ٹهیک ہے امی شب بخیر.
سیرت:شب بخیر بیٹا..
لینا اور ندا سکول سے واپس آئیں سب کو سلام کیا ماں نے کہا کپڑے بدل کے اور فریش ہو کے کهانا کهانے آجاو..
سب کهانے پر موجود تهے کهانا کهاتے دوران سیرت بولی آپا لینا کو رشتہ قبول ہے لیکن.. سادیہ فورا بولی لیکن کیا؟
سیرت:لیکن لینا شادی ابهی فورا نہیں کرنا چاہتی ماسٹرز مکمل کرنا چاہتی ہے
سادیہ مسکراتے ہوئے بولی یہ تو بہت اچهی بات ہے اسکا مطلب مجهے کچه اور دیر تک اس کا انتظار کرنا پڑے گا ساحل بولا جی خالہ لینا جیسا چاہے ہمیں منظور ہے.


#ShortStories #UrbanFiction #Storytelling #FlashFiction
Next 2-Minute Read The Old Radio of Matunga East Read Next Story →
Read smoothly in WritOn
Open App