ناول دیوار.....قسط 3
ناول
لینا کچن میں کهڑی چائے بنا رہی تهی کے اتنے میں ساحل کچن میں داخل ہوا لینا مڑی اور فورا بولی تم کیا ان کے سامنے مجهے اشارے کیئے جا رہے تهے وہ لوگ دیکهتے تو کیا سوچتے اس سے پہلے ملے نہیں ہو اور کتنے فری ہو رہے ہو اب بولو کیا بات ہے.
ساحل: تم بولنے دوگی تو بولونگا نا
لینا: اچها بولو؟
ساحل: وہ دراصل بات یہ ہے کے میں..میرا مطلب مجهے.. اف کیسے کہوں
لینا: بات کیا ہے کیا میرا ... یہ وہ.. مجهے کچه سمجه نہیں آ رہا لینا پیچهے مڑی اور چولا بند کرتے ہوئے بولی بهئی تمہیں بات نہیں کرنی تو تمہاری مرضی چائے تیار ہوگئی اور میں چلی ساحل لینا کا راستہ روکتے ہوئے بولا: تم نہیں جانتی کے میں کیا کہنا چاہتا ہوں؟
لینا: نہیں میں کیسے جانونگی تم نے کچه کہا نہیں اب راستہ دو؟
ساحل: اوکے تو سنو.. مجهے تم بہت اچهی لگتی ہو اور میں تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں کیا تم مجهے چاہتی ہو بولو مجه سے شادی کرو گی؟
لینا حیران ہوئی اور تهوڑی دیر خاموش رہنے کے بعد بولی مجهے جانے دو ساحل فورا بولا میں تم سے پیار کرتا ہوں مجهے جس لڑکی کی تلاش تهی وہ صرف تم ہو اس لئیے مینے تمہیں فورا پروپوز کرنے کا سوچا اب مجهے تمہارا جواب چاہیئے اسی وقت.
لینا: اف مجهے جانے دیں چائے ٹهنڈی ہو رہی ہے اتنے میں سیرت کی آواز آئی..لینا بیٹا کہاں رہ گئی جلدی چائے لاو پهر تمہاری خالہ نے آرام بهی کرنا ہے. لینا پر حیبت تاری ہوئی اور وہ بولی بس سن لیا امی بلا رہی ہیں اب راستہ چهوڑو
ساحل راستہ دیتے ہوئے بولا جاو لیکن مجهے تمہارا جواب ابهی ہی چاہیئے اگر تم نے چائے پریچ میں ڈال کر پی تو میں سمجهونگا ہاں ہے ورنہ کپ سے چائے پینے پر میں اسے تمہارا انکار سمجهونگا
لینا جاتے ہوئی بولی میں پریچ سے چائے نہیں پیتی اور وہ چلی گئی لینا گیسٹ روم میں داخل ہوئی اور چائے سرو کی ساحل بهی آکر بیٹه گیا سادیہ بولی کہاں رہ گئے تهے بیٹا لو چائے پیو لینا نے ساحل کو بهی چائے دی پهر خد بهی بیٹه گئی سب چائے پینے لگے سوائے لینا کے وہ سوچ میں گم تهی سادیہ لینا کو نوٹس کرنے کے بعد بولی لینا چائے پیو نا کیا سوچ رہی ہو لینا سر ہلاتے ہوئے بولی جی پیتی ہوں خالہ. ساحل لینا کو دیکهے جا رہا تها اسے بے صبری سے اپنے جواب کا انتظار تها لینا نے ساحل کی طرف دیکها اور پهر چائے کا کپ پریچ سے اٹهایا اور چائے کو پریچ میں ڈالا اور پی لیا ساحل یہ دیکه کر بہت خوش ہوا کے لینا نے شادی کے لیئے ہاں بهی کردی اور وہ بهی ساحل کو چاہتی ہے لینا نے مسکراتے اور شرماتے ہوئے ایک نظر ساحل کی طرف دیکها جو آلریڈی لینا کو دیکه رہا تها.ساحل مسکرایا..
سیرت نے سادیہ سے پوچها بهئی ساحل کی شادی کب کروگی؟
یہ سن کر ساحل اور لینا چونک گئے.سادیہ بولی میں تو کب سے کروانا چاہتی ہوں لیکن ساحل ہی تیار نہیں ہوتا یہ کہے تو کل کروادوں اسکی شادی.
سیرت: کیوں نہیں کرنا چاہتا؟
سادیہ: پہلے پڑهائی کا کہتا تها پهر نوکری کا.
سیرت: تو ماشاالله سے اب تو جاب بهی مل گئی اب کس بات کا انتظار.
سادیہ یکدم بولی اب تو میں اسکی ایک نا سونونگی .. یہ کہ کر سادیہ مسکرائی..
سادیہ: چلو بهئی میں تو سونے چلی
سیرت: ہاں بلکل جاو آرام کرلو کافی دیر ہوگئی ہے ساحل بیٹا تم بهی سو جاو جا کے تهکے ہوگے آج کافی لمبا سفر کرکے آئے ہو اور لینا تم نے کمرہ تو تیار کردیا نا سونے کیلئے
لینا:جی امی
سیرت:اور ندا سوگئی؟
لینا: جی امی وہ تو کب کی سو چکی اسے نیند آرہی تهی تو کهانا کهاتے ہی سوگئی
ساحل اٹها اور بولا ٹهیک ہے میں چلتا ہوں سونے شب بخیر
لینا:شب بخیر
سیرت:شب بخیر بیٹا.
اگلی صبح ناشتے کے بعد لینا اور ندا سکول کیلئے نکلنے ہی لگی کے ساحل بولا لینا سکول جا رہی ہو تم دونوں تو میں چهوڑ آوں؟
لینا: نہیں شکریہ اتنا دور نہیں پانچ دس منٹ کا راستہ ہے ہم چلے جائیں گے روز جاتے ہیں
سادیہ بولی لینا بیٹا ساحل چهوڑ دیگا ساحل جاو چهوڑ آو.
ساحل: چلیں پهر
لینا: اوکے خداحافظ
سادیہ اور سیرت نے خداحافظ کہا اور لینا اور ندا ساحل کے ساته گهر سے نکل گئے.
لینا ندا کے سکول میں ہی ٹیچنگ کرتی تهی.صبح میں سکول جاتی تهی اور شام میں یونیورسٹی. تینوں سکول کی جانب جا رہے تهے ساحل نے دهیمی آواز میں لینا کو کہا شکریہ لینا سنتے ہی بولی کس بات کیلئے؟
ساحل مسکرایا اور بولا میری محبت کا مان رکهنے کیلئے لینا شرمائی اور دهیمی آواز میں بولی ندا ساته ہے سن لیگی چپ رہو ساحل بولا اوکے اور پهر اس نے ندا سے پوچها کس کلاس میں ہو
ندا: دسویں میں ہوں
ساحل: ماشااللہ.
سکول پہنچا لینا بولی بہت شکریا اب تم گهر جاو ساحل بولا ٹهیک ہے اپنا خیال رکهنا میں چلا اور چهٹی کب ہوگی بتادو تاکہ لینے آجاوں
لینا:نہیں شکریہ زحمت کی ضرورت نہیں ہم آجائینگے چلیں خداحافظ
ساحل خداحافظ کہ کر راوانا ہوگیا.
سیرت کچن میں کهانا بنا رہی تهی اور سادیہ اسکے ساته کهڑی باتیں کر رہی تهی ساحل کچن میں داخل ہوا سیرت کام میں مصروف تهی اسی لمحے ساحل نے ماں کو اشارہ کیا کے یہاں آئیں سادیہ نے سر ہلایا اور بولی سیرت میں آتی ہوں سیرت: ٹهیک ہے آپا جائیے بس کهانا ویسے بهی تیار ہونے لگا ہے اور بچیاں بهی آتی ہونگی.
سادیہ کچن سے نکلی ساحل ہاته پکڑکر فورا اسے کمرے میں لے گیا سادیہ حیرت سے بولی کیا بات ہے ساحل کیا کام ہے؟
ساحل:مجهے آپ سے بہت ضروری بات کرنی ہے
سادیہ:تو بعد میں کر لیتے آرام سے کیا مجهے سیرت سے کهینچ کر لے آئے اب بولو کیا ضروری بات ہے؟
ساحل شرماتے ہوئے بولا وہ دراصل بات یہ ہے کے آپ اس دن شادی کا