ناول ... دیوار "رائیٹر .. حسن تحریر..قسط 2

ناول

Cover artwork for ناول ... دیوار "رائیٹر .. حسن تحریر..قسط 2
SHORT STORIES

لینا ڈرائنگ روم میں داخل ہوئی سادیہ اسے دیکه کر کهڑی ہوئی اور مسکراتے ہوئے سلام کیا لینا نے بهی مسکراتے ہوئے جواب دیا دونوں گلے ملے لینا نے خالہ کو بیٹهنے کے لیئے کہا سادیہ بیٹهی اور لینا کو اپنے پاس بٹهایا بولی ماشاالله کتنی بڑی ہوگئی ہو.
لینا: جی.. آپ کو کافی ٹائم بعد ہماری یاد آئی خالہ.
سادیہ: بس کیا کریں بیٹا ساحل فارغ ہی نہیں ہوتا ابهی بهی بہت کہا کیونکہ اب اسے ماشااللہ بہت اچهی جاب مل گئی اور کچه دن دفتر سے چهٹی ملی تو ہم آ گئے اور تجهے بهی تو خالہ یاد نہیں آتی نا کے تم لوگ ہی چکر لگا لو
اتنے میں ساحل اور سیرت دونوں آگئے.
سیرت چائے لے کرآئی اور بولی لینا چائے دو سب کو.
لینا: سر ہلاتے ہوئے جی امی.
ساحل لینا کو پیار بهری نظروں سے دیکهے جا رہا تها اسے لینا پہلی ہی نظر میں پسند آگئی تهی لینا نے سب کو چائے دی ساحل کو چائے دیتے وقت اس نے دیکها کے ساحل اسے مسکرا کر دیکه رہا ہے. لینا کو شرم سی آئی اور وہ فورا اپنی جگہ جا کر بیٹه گئی.
سیرت: ساحل بیٹا یہ کیک اور بسکٹ بهی لو.
ساحل عاجزی سے جی خالہ لیتا ہوں.
سیرت: آپا آپ بهی تکلف نا کریں. سادیہ مسکراتے ہوئے بلکل نہیں میری اپنی بہن کا گهر ہے ..سب مسکرائے..
چائے پینے کے بعد کهانے کا وقت ہوا دسترخوان پر عمدہ عمدہ پکوان موجود تهے بریانی سیخ کباب تکے بهنڈی گوشت کهیر رس ملائی سادیہ دیکهتے ہی بولی سیرت اس تکلف کی کیا ضرورت تهی؟
سیرت: میری بڑی بہن اور اس کا اکلوتا بیٹا اتنی مدت بعد آ رہے تهے کیسے کچه نا کرتی یہ تو میرا پیار ہے چلو اب کهانا شروع کرو باتیں بعد میں کرنا
سب کهانا کهانے لگے.
کهانا کهاتے ہوئے سیرت نے سادیہ سے پوچها: آپا کتنے دنوں کیلئے آئی ہو؟
سادیہ: بهئی ساحل نے آنے سے پہلے ہی سختی سے کہا ہے کے امی ایک ہی دن روکینگے پهر اس کو دوستوں کے ساته ٹوور پے جانا ہے
لینا: وا خالہ یہ کیا بات ہوئی لینا فورا اداس ہوتے ہوئے بولی ساحل چلا جائے اگر بہت ضروری ہے تو آپ رک جائیں
سادیہ: ایسے کیسے بیٹا اسکی پیکنگ اور بهی بہت سے کام اب بیوی بهی نہیں ورنہ میں فارغ ہوتی.
یہ سن کر ساحل مسکرایا اور شرمایا پهر ترچی نظروں سے اس نے لینا کی طرف دیکها بولا امی جان ٹوور رہنے دیں سب اتنا اسرار کر رہے ہیں تو رک جاتے ہیں
سیرت: شاباش بیٹا یہ ہوئی نا بات
سادیہ حیرت سے ارے واہ گهر میں تو میں اسرار کرتے تهک گئی چلو شکر ہے.
لینا نے مسکراتے ہوئے ساحل کو دیکها دونوں ایک دوسرے کو دہکه رہے تهے.
لینا اور ساحلایک دوسرے کو چاہنے لگے تهے ساحل نے لینا کی ہی کے لیئے جانے کا فیصلہ بدلہ کے وہ لوگ دو ہفتوں بعد جائینگے اور لینا بهی سمجه گئی تهی کے ساحل نے فیصلہ کیوں بدلہ ویسے تو اب تک اظہار محبت دونوں میں سے کسی نے نا کی تهی لیکن ایک دوسرے کی آنکهوں میں دونوں نے محبت دیکه لی تهی..
ساحل اپنے کمرے میں لیٹا لینا کے بارے میں سوچ رہا تها اور لینا اپنے کمرے میں ساحل کے خیالوں میں گم تهی.
ندا کمرے میں داخل ہوئی اور بولی آپی امی بلا رہی ہیں لینا سوچ میں گم ندا نے ہاته لگا کر ہلایا آپی لینا: ہہ ہاں کیا ہوا؟
ندا: کہاں کهوئی ہو آپی امی بلا رہی ہے کے کچن میں آ کے میری مدد کرو.
لینا اوہ اچها چلو میں جاتی ہوں ورنہ پهر ڈانٹ پڑے گی.لینا فورا اٹهی اور کمرے سے نکل گئی.
ڈنر کا وقت تها سیرت نے لینا سے کہا کے جاو خالہ اور ساحل کو بلا لاو لینا جی امی کہ کر خالہ کے کمرے کی طرف گئی دروازے پر دستک دی بولی خالہ کهانا لگ گیا ہے آجائیں یکدم دروازہ کهلا ساحل تها بولا آو اندر لینا بولی نہیں بس کهانے پے بلانے آئی تهی ساحل بولا اچها ٹهیک ہے ہم آتے ہیں لینا جانے لگی تو ساحل نے روکا سنو..؟
لینا: جی؟
ساحل:مجهے تم سے ضروری بات کرنی ہے اکیلے میں
لینا: بولو؟
ساحل: ابهی نہیں ڈنر کے بعد
لینا: یہ کیا طریقہ ہے ابهی بولو پهر مشکل ہے اور اکیلے میں کیوں کیا بات ہے؟
ساحل:اف سمجهو بس ابهی نہیں ہو سکتی جو کہا مانو اچها امی آرہی ہے جاو ہم آتے ہیں.لینا چلی گئی
سب نے ڈنرکیا ساحل لینا کو آنکهوں ہی آنکهوں میں اشارے کر رہا تها کے سائیڈ پر آو بات کرنی ہے لینا نظرانداز کرتی گئی کیونکہ اسے وہ ٹهیک موقع نا لگا پهر سیرت نے لینا کو چائے بنانے کیلئے کہا لینا جونہی چائے بنانے گئی ساحل خوش ہوا کے اچها ہے اسے موقع ملا وہ واشروم کا بہانا بنا کر کچن گیا


#ShortStories #UrbanFiction #Storytelling #FlashFiction
Next 2-Minute Read The Old Radio of Matunga East Read Next Story →
Read smoothly in WritOn
Open App