ناول دیوار .. قسط 4

ناول

Cover artwork for ناول دیوار .. قسط 4
SHORT STORIES

تذکرہ کر رہی تهیں تو... ساحل خاموش ہوا.
سادیہ:تو کیا یہی کہ تم ابهی تیار نہیں ہو نا جانتی ہوں میں..کب سے یہی سنتی آرہی ہوں اسلیئے مجهے کهینچ کر لائے اس بات کے لیئے
ساحل فورا بولا امی پہلے بات تو پوری سن لیں مجهے میری بات تو مکمل کرنے دیں نا
سادیہ:اچها کرو مکمل بات کو
ساحل:امی بس میں صرف آپ سے یہی کہنے کے لیئے اپکو یہاں لایا ہوں کے میں شادی کرنا چاہتا ہوں..
یہ سن کر سادیہ حیران رہ گئی پهر بولی حیرت ہے کل تک تو تم راضی نا تهے اب ایسا کیا ہو گیا کیوں میرے بیٹے کو کوئی پسند ہے کیا؟
ساحل شرماتے ہوئے اور نظریں نیچی کرتے ہوئے بولا جی امی ایک لڑکی مجهے پسند ہے آپ اسے جانتی ہیں آپ کو بهی پسند ہے
سادیہ:تو پہیلیاں کیوں بجوا رہے ہو سیدهے سیدهے نام لو اسکا کون ہے وہ؟
ساحل: میں لینا کی بات کر رہا ہوں
سادیہ مسکراتے ہوئے بولی اب سمجهی.بهئی مجهے بہت خوشی ہوئی میری تو خود یہی دلی خواہش ہے بس تمہارے انکار سے ڈر لگتا تها تبہی مینے کبهی بات نہیں چهیڑی
ساحل ماں کے دونوں ہاته پیار سے پکڑتے ہوئے بولا تو پهر رشتے کی اور شادی کی بات کریں نا خالہ سے.
سادیہ: وہ تو ٹهیک ہے لیکن لینا کی رضامندی بهی ضروری ہے بیٹا.. ساحل کے منہ سے یکدم نکلا وہ راضی ہے امی..سادیہ سن کر حیرت سے بولی تمہیں کیسے پتا کیا تم نے اس سے پوچها ہے؟
ساحل سوری امی پر ہاں یہ سچ ہے کے مینے اسکی مرضی پوچهی تبہی تو آپ سے بات کر رہا ہوں.سادیہ مسکراتے ہوئی بولی شریر سب طے بهی کر لیا چلو میں سیرت سے موقع دیکه کر جلدی ہی بات کرتی ہوں کیونکہ مجهے بڑی جلدی ہے اور لینا تو میری اپنی ہی بہن کی بیٹی ہے مجهے بڑی پسند ہے اچهی بچی ہے.
کهانے کے بعد سادیہ سیرت کے پاس گئی سیرت نماز پڑه رہی تهی وہ اسکے نماز ختم کرنے کا انتظار کرنے لگی سیرت نے نماز پڑهی دعا کی جب مڑ کر دیکها تو سادیہ کو دیکهتے ہی پوچها آپا آپ یہاں خیریت کسی چیز کی ضرورت تهی تو لینا کو کہ دیتیں
سادیہ مسکراتے ہوئے بولی ارے نہیں کسی چیز کی ضرورت نہیں ےتهی بس کب سے موقع تلاش کر رہی تهی ایک ضروری بات کرنی تهی تم سے
سیرت: ضروری بات کہیں آپا کیا بات ہے؟
سادیہ: سیرت بات بہت اہم ہے لینا اور ساحل کے حوالے سے
سیرت:میں کچه سمجهی نہیں کهل کے بولو خیر تو ہے؟
سادیہ مسکراتے ہوئے..بلکل خیر ہے بس میری شروع سے ہی ایک دلی خواہش رہی ہے جسکا اظہار آج میں آپ سے کرنا چاہتی ہوں اور وہ یہ کے میں ساحل کے لئیے لینا کا ہاته آپ سے مانگتی ہوں بڑی امید ہے مجهے آپسے
سیرت کے چہرے پر یہ سن کر ایک عجیب سی خوشی کی چمک آئی وہ مسکرائی اور بولی آپا لینا تو آپ ہی کی بیٹی ہے آپ کی کیا یہ تو میری بهی خواہش تهی ایک تو ساحل بہت ہی اچها بچہ ہے اور میں اپنی بیٹی کی شادی خاندان میں ہی کروانا چاہتی تهی ورنہ اسکے تو بہت اچهے اچهے رشتے آئے سامنے پڑوس میں میری دوست نوری رہتی ہے اسنے اپنے بیٹے ہنان کیلیئے رشہ مانگا تها ہنان اچها ہے بہت اچها ساحل تو شادی کیلئے راضی نہیں آپ نے بتایا تها تو؟
سادیہ ہستے ہوئے بولی انہی جناب کی فرمائش پر تو رشہ مانگ رہی ہوں میں تو خود حیران بهی ہوئی اور خوش بهی اسنے میرے دل کی بات جو کہ دی اب تو فورا رسم ہو جانی چاہیئے ساحل کو بهی بہت جلدی ہے
سیرت:وہ تو ٹهیک ہے پر میں پہلے اپنی بیٹی سے بهی پوچه لوں
سادیہ مسکرائی اور بولی وہ بهی ہاں ہی کرے گی اسکی بهی یہی مرضی ہے پهر بهی تم دوبارہ اس سے پوچه کر تسلی کرلو
سیرت ہستے ہوئے بولی اچها یہ تو بڑی اچهی بات ہے لیکن پهر بهی میں اس سے پوچه کر اپنا فرض نبهاتی ہوں
سادیہ:بلکل چلو اسی خوشی میں ایک کپ چائے کا ہو جائے
سیرت مسکراتے ہوئے اپنی جگہ سے اٹهی


#ShortStories #UrbanFiction #Storytelling #FlashFiction
Next 2-Minute Read The Old Radio of Matunga East Read Next Story →
Read smoothly in WritOn
Open App