ناول دیوار قسط 1
ناول دیوار
ناول:دیوار
رائٹر:حسن تحرير
قسط:1
رات کا وقت تها لينا بيٹھی اپنی چھوٹی بہن کی چوٹی بنا رہی تھی کے اتنے میں لینا کی والدہ کمرے میں داخل ہوئی اور فورا بولی: میں کب سے تم دونوں کو بلاۓ جا رہی ہوں لیکن مجال ہے کے کبھی تم دونوں میرے بلانے پر فورا آجاؤ خیر کام تو مینے کر لیا
لینا:اچھا امی معاف کریں اور اب بتائیں بات کیا ہے
لینا کی والدہ کا نام سیرت تھا سیرت بولی پہلے تو ایک بات کان کھول کر سن لو ندا تمہاری چھوٹی بہن ہے تیرا سال کی ہے اور تم بائیس سال کی ہو اسلیے تم میرا ہاتھ بٹایا کرو
لینا:اچھا میری پیاری امی اب بولو بھی بات کیا ہے؟
سیرت: بات یہ ہے کے تمہاری خالہ سادیہ اور انکا بیٹا ساحل کل ہمارے گهر آ رہے ہیں اس لیے کل جلدی اٹه کر میرا ہاته بٹانا
لینا: اف امی یونیورسٹی کی ایک ہی تو چهٹی ہوتی ہے اس میں بهی آرام نا کریں
سیرت: فضول باتیں بند کرو جو کہا وہی کرنا پڑے گا اور ابهی دیر رات تک نا بیٹهو نا جلدی سو جاو تاکہ جلدی اٹه سکو
لینا: وہ سب تو ٹهیک ہے امی لیکن میں تو اپنی پوری زندگی میں جہاں تک مجهے یاد پڑتا ہے سادیہ خالہ کے بیٹے ساحل سے نہیں ملی آپ ملی ہہیں کیا یہ ساحل کونسی بلا کا نام ہے؟
سیرت: چپ کر شریر میں خد صرف بچپن میں ملی ہوں تب تم بہت چهوٹی تهی اس لئے تمہیں نہیں یاد دراصل ساحل شروع ہی سے ہوسٹل میں رہا ہے اور ہم بهی سادیہ کے ہاں زیادہ آتے جاتے نہیں ورنہ ساحل گرمی کی چهٹیوں میں گهر جایا کرتا تها
لینا: اوہ اچها تو ایسی بات ہے.
سیرت: چلو اب آو کهانا کهاو اور پهر جلدی سو جاو
لینا: لو ندا بن گئ تمہاری چوٹی چلو چل کر کهانا کهائیں.
ندا: شکریہ آپی.
ندا سیرت اور لینا کمرے سے نکل گئیں
لینا کے والد کا انتقال ہو چکا تها. لینا پڑهتی بهی تهی اور ٹیچنگ بهی کرتی تهی لینا کے والد کی پنشن بهیملتی تهی جس سے انکا گزر بسر اچهے سے ہوتا تها.
اگلی صبح لینا سوئی پڑی تهی کے زور سے کمرے کا دروازہ کهلا اور سیرت اندر آئی لینا کو زور سے ہلایا اور بولی اٹهو مہمان آنے ہی والے ہونگے صبح سے آوازیں دے دے کر تهک گئ اور تم ہو کے جسے احساس ہی نہیں ماں کا
لینا: امی سونے دیں نا کیا ہے؟
سیرت : ہاته تو ماں کا بٹایا نہیں کم از کم اٹه کر تیار ہی ہو جاو وہ لوگ آتے ہی ہونگے
لینا کروٹ بدلتے ہوئے بولی آتے ہیں تو آئیں میں نے کونسا منع کیا ہے
سیرت غصے سے بولی اٹهو ورنہ مار کهاو گی ابهی ..لینا اٹهی اور بولی اٹهنا ہی پڑے گا نیند جو خراب ہوگئ.
سیرت: بہت اچها ہوا یہ کہ کر کمرے سے نکل گئ.
لینا باته روم چلی گئ سیرت جونہی کمرے سے نکلی دروازے پر دستک ہوئی سیرت بولی لو لگتا ہے آ گئے وہ لوگ سیرت نے ندا کو آواز دی.. ندا بیٹا جاو دروازہ کهولو.ندا گئی اس نے دروازہ کهولا اور سلام کیا اسلام و علیکم.
سادیہ اور ساحل نے مسکرا کر جواب دیا وعلیکم اسلام.
ندا: آئیے
سادیہ اور ساحل اندر آئے سیرت سادیہ کے گلے ملی سلام کیا ساحل نے سلام کیا سیرت نے وعلیکم سلام کہا اور پیار دیا سیرت نے مہمانوں کو ڈرائنگ روم میں بٹهایا پهر بولی ماشااللہ ساحل تو جوان ہو گیا پہچان میں ہی نہیں آ رہا
سادیہ: ہاں بهئ بچے کب بڑے ہو جاتے ہیں پتا ہی نہیں چلتا
ساحل: خالہ واشروم کہاں ہے مجهے فرش ہونا ہے
سیرت: کیوں نہیں بیٹا ضرور سامنے والے کمرے میں ہے جاو ہاته منہ دهو لو پهر میں کهانا لگاتی ہوں
ساحل اٹها اور کمرے میں واشروم کی طرف گیا جب وہ قریب پہنچا تو اس نے دیکها کے دروازہ بند هے ساحل نے دستک دی تو اندر سے آواز آئی .. اف کیا ہے امی آ رہی ہوں نا ایک تو جب بهی کوئی مہمان آتا ہے آپ پیچهے ہی پڑ جاتی ہیں یہ سن کر ساحل مسکرایا اور اس نے جان بوج کےدوبارہ دستک دی لینا ٹاول سے بال سکهاتے ہوئے یہ کہتے ہوئے نکلی لیں آگئ دروازہ پیٹے جا رہی ہیں ساحل کو سامنے کهڑا دیکه کر لینا خاموش ہوئی اور حیران رہ گئ ساحل مسکرا رہا تها لینا بولی میں سمجهی امی ہے تم کون ہو؟اور جب میں اندر سے امی امی کر رہی ہوں تو جواب کیوں نہیں دیتے؟
ساحل مسکرا رہا تها بولا میں ساحل ہوں
لینا: اوہ اچها تو تم ہو وہ بلا ..منہ میں بڑبڑاتےہوئے بولی
ساحل: کچه کہا آپ نے؟
لینا: نہیں تو
لینا نے دوپٹا سہی سے اوڑها ساحل اسے مسلسل دیکه رہا تها لینا بولی کیا گهور رہے ہو؟
ساحل :
کچه نہیں بس دیکه رہا ہوں کے بہت حسین ہو تم
لینا کو شرم سی آئی پهر بولی زیادہ فری ہونے کی ضرورت نہیں واشروم جانا ہے تو جاو لینا یہ کہ کر دروازے کی طرف گئی اور مسکرائی سامنے سے سیرت آئی اور فورا بولی مجهے تو اب یاد آیا کے واشروم میں تو ہے ساحل کو جانا ہے تجهے تو ماں کا احساس ہی نہیں
لینا: امی آ ہی رہی تهی اور ساحل چلا گیا اندر اب آپ بهی چلیں
سیرت: تم نے سلام تو کیا نا؟
لینا؟ ہہ ہہ ہاں ہاں کک کیوں نہیں
سیرت: تو پهر چلو خالہ کو بهی سلام کرو میں چائے لاتی ہوں.