کہانی:محبت کی نہیں جاتی محبت ہو جاتی ہے..
کہانی: محبت کی نہیں جاتی محبت ہو جاتی ہے
تیزی سے کلاس روم کی طرف بڑھتے ہوئے نینا منہ ہی منہ میں بڑبڑا رہی تھی ہاته میں ڈھیر ساری کتابیں تھیں اپنی ہی دنیا میں گم کلاس میں داخل ہوئی سر نادر کی آواز سن کر رک گئی اور بولی جی سر؟
نادر تیز لہجے میں کیا جی سر مینے پوچھا بغیر اجازت لیئے تم اندر کیوں آئی؟
نینا: اوہ آیم سو سوری سر میرا دیهان کہیں اور تھا.
نادر:دیهان کام کی طرف دو جاو اپنی سیٹ پر جا کر بیٹھو.
نینا فورا اپنی سیٹ پر بیٹھ گئی ساتھ بیٹھی اسکی بیسٹ فرنڈ نیلم نے پوچھا کیا ہوا تم اتنی پریشان کیوں لگ رہی ہو خیر تو ہے.
نینا بہت ضدی منہ پھٹ خوبصورت غصے والی نخریلی انصاف پسند تھی ماں اسکی اس دنیا میں نا تھی باپ کے ساتھ رہتی تھی امیر باپ کی اولاد تھی. .. بولی پریشانی تو ہے آج پھر بابا نے پتا نہیں کس کا رشتہ لاکر سامنے رکھ دیا میں تنگ آگئی ہوں.
نیلم:بس اتنی سی بات نے تمہارے ہوش اڑا دیئے اس عمر میں تو ایسا ہوتا رہتا ہے اور ماں باپ کو یہ پریشانی ہوتی ہی ہے اور انکل کی تو بات ہی مت کرو انکی پریشانی بھی سمجھو تمہاری ماں نہیں انکا فکر کرنا اپنی جگہ سہی ہے.
نینا چڑتے ہوئے بولی لو جی اب دادی اماں کی نصیحتیں شروع.....اف..
نیلم:مت سنو نصیحتیں سر کا لیکچر سنو..
نینا:ہاں تمہارے لیکچر سے بہتر ہے.
یہ کہ کر دونوں خاموشی سے لیکچر سننے لگے.
نینا اپنے کمرے میں لیپٹوپ کے سامنے بیٹھی کام کر رہی تھی کے اتنے میں اسکے بابا کمرے میں داخل ہوئے اور بولے صبح تو بیٹا تم رشتے کا سن کر ناراض ہو گئی تھی لیکن یہ ٹھیک بات نہیں تم میری ذمہ داری ہو کیا کروں سمجھنے کی کوشش کرو میں تم پر زبردستی ہرگز نا کرونگا لیکن تم رشتہ دیکھو تو سہی.
نینا:اوکے بابا اب آپ کیا چاہتے ہیں؟
نینا کے بابا علی خوشی سے بولے یہ ہوئی نا بات یہ تصویر دیکھ لو یہ اس لڑکے کی تصویر ہے جس کا رشتہ آیا ہے ماجد نام ہے.
نینا دل ہی دل میں بولی اسکا تو مجھے نام ہی اچھا نہیں لگا پھر نینا نے تصویر دیکھی اور فورا اپنے باپ کی طرف تصویر پکڑتے ہوئے بولی دیکھ لیا اور مجھے پسند نہیں انکار کر دیں.
علی غصہ ہوتے ہوئے بولا یہ کیا بچپنا ہے تمہاری ماں ہوتی تو آج مجھے اتنی مشکل نا ہوتی خیر میں تم پر زبردستی نہیں کرنا چاہتا یہ کہ کر علی کمرے سے باہر نکل گیا...نینا اپنا کام کرنے لگی..
اگلے دن نینا اور نیلم کلاس میں بیٹھی باتیں کر رہی تھیں کلاس روم میں اور کوئی نا تھا اچانک ایک لڑکا کلاس میں داخل ہوا.نینا اور نیلم خاموش ہو گئیں.نینا حیران ہوئی اور بولی تم..؟
وہ لڑکا اور کوئی نہیں بلکہ ماجد تھا.ماجد نے نینا کی طرف دیکھا اور بولا آپ نینا ہیں نا؟
نینا غصے میں بولی جی ہاں میں نینا ہوں اور تمہاری ہمت کیسے ہوئی میری یونیورسٹی آنے کی.ماجد کو یہ سن کر حیرت ہوئی.ماجد ایک بہت اچھا لڑکا تھا تمیز دار سمجھ دار ہینڈسم زہین اور قابل.. نینا کا رویہ دیکھ کر وہ حیران ہوا اور اس نے پوچها کیوں آپ مجھ سے ناراض ہیں کیا؟
نینا:ناراض لوگ ان سے ہوتے ہیں جن کے بیچ کوئی رشتہ ہوتا ہے.
ماجد:میں کچھ سمجھا نہیں رشتہ ہے نہیں پر ہونے تو جا رہا ہے نا... ماجد ایک سیکنڈ خاموش ہوا اور پھر فورا بولا کہیں ایسا تو نہیں کے میں آپ کو پسند نہیں.
نینا:مسکرائی اور بولی بلکل ٹهیک سمجھے مجھے تم پسند نہیں اور میں رشتے سے انکار کر چکی ہوں.تم یہاں کیوں آئے ہو؟
ماجد کو یہ سن کر افسوس ہوا اور وہ سنجیدگی سے بولا پہلی بات تو یہ کے یہ صرف آپ کی یونیورسٹی نہیں اور آپ تمیز سے بات کریں میں یہاں آپ کے لیئے نہیں آیا میرے تو فرشتوں کو بھی خبر نا تھی کے آپ یہاں ہیں دراصل آج ہی میرا ایڈمیشن ہوا ہے اور اگر مجھے علم ہوتا کے آپ انکار کر چکی ہیں اور میں آپکو ناپسند ہوں تو میں آپ سے بات نا کرتا.
نیلم فورا ماجد سے بولی یہ تو پاگل ہے پلیز اس کی باتوں کا برا نا منائیں میں خد ابھی اسے سمجھا ہی رہی تھی یہ صرف ابھی شادی نہیں کرنا چاہتی اور کوئی بات نہیں نینا نیلم کی بات کاٹتے ہوئے بولی تم تو چپ ہی کرو دادی اماں زبردستی ہے کیا...؟؟ ماجد نے مسکراتے ہوئے نیلم سے کہا آپ رہنے دیں مجھے بھی ان سے شادی نہیں کرنی اور نینا جی آپ پر کوئی زبردستی نہیں کرے گا کیونکہ میں اپنے ڈیڈ سے آج ہی کہ دونگا کے انکار کر دیں اوکے بائے نیلم میں چلتا ہوں. ...نینا لاجواب ری گئی...نیلم:نینا اتنا اچھا لڑکا ہے بہت پچتاوگی غلطی کی تم نے.
نینا غصے میں بولی معاف کرو مجھے اتنا پسند ہے تو تم کرو شادی اس سے..نینا غصے میں کلاس سے باہر نکل گئی.
نینا اور اس کے والد بیٹھے ناشتہ کر رہے تھے.
علی:کل رات ماجد کے والد صاحب کی کال آئی تھی. ..
نینا:تو؟
علی:تو یہ کے خوش ہو جاو ماجد نے خود ہی شادی سے انکار کر دیا.
نینا ناشتہ کرتے ....یہ بات سنتے ہی رک گئی...... کیا کہا آپ نے ماجد نے انکار کر دیا لیکن کیوں؟
علی:بس آج کل کی اولاد ایسی ہی ہے ماں باپ کو فیصلہ سناتی ہے بجائے انکا فیصلہ ماننے کے اور پھر بعد میں برا ہونے پر سر پکڑ کر روتی ہے کیونکہ یہ نہیں سمجھتی یہ اولاد کے والدین انکی بہتری چاہتے ہیں خیر میں چلا مجھے ایک ضروری کام ہے علی کرسی سے یہ کہتے ہوئے اٹھا ....اچھا ہے کے انکار انہوں نے خود کر دیا ورنہ میری ہمت نہیں تھی..
نینا خاموشی سے سب سنتی رہی وہ بہت حیران پوئی اور دل ہی دل میں بولی اسنے تو واقعی انکار کر دیا..
سر نادر لیکچر دے رہے تھے نینا ماجد کو دیکھ رہی تھی اسے دیکھتے ہوئے دل میں بولی اتنا برا تو نہیں کافی اٹریکٹو ہے اسی سوچ میں گم تھی کے سر نادر نے نینا کو آواز دی. .نینا کیاں گم ہو؟
نینا ہچکچاتے ہوتے "سس سر کک کک کہیں نہیں"
نادر:ہوش میں رہو...خیر تم بتاؤ اخلاق کے بارے میں
نینا سوچتی رہی سر نادر بولے "بولو بهی؟"
نینا:سر مجھے نہیں پتا.
نادر:اف کون بتا سکتا ہے اخلاق کے بارے میں .....ماجد تم بتاؤ ؟
ماجد:سر اخلاق کے بارے میں اتنا ہی کہہے.ونگا کے انسان میں بہتر اخلاق کا ہونا نہایت ضروری ہے اور اچھا اخلاق ہی سب کچھ ہے..جسکا اخلاق اچھا وہ انسان بہتر انسان دنیا میں بھی اور اللہ کے قریب بھی. .... خوبصورت ہونا میری نظر میں اہم نہیں خوب سیرت ہونا اہم
نادر:بلکل سہی شاباش الله بھی اچھے اخلاق والوں کو پسند کرتا ہے.تو نینا سمجھی کچه؟
نینا:یس سر. نینا نے ماجد کی طرف دیکھا.نیلم بھی ماجد کو دیکھ رہی تھی نینا کے کان میں بولی اس سے بہتر کون بتا سکتا تھا اچھے اخلاق کے بارے میں..نینا کچھ نا بولی.
کلاس ختم ہونے کے بعد سب کلاس روم سے نکلے تو نیلم نے ماجد کو روکا...ایکس کیوزمی؟
ماجد نے مڑ کر دیکھا اور مسکرا کر کہا نیلم نام ہے نا آپکا؟
نیلم:جی آپ نے آج اخلاق کے بارے میں بہت اچهی باتیں کی.
ماجد:شکریہ.
نینا دور سے دونوں کو دیکھ رہی تھی.
نیلم:آپ کا اخلاق بہت اچھا ہے اس دن نینا سے بات کرتے مجھے اندازہ ہوا..
ماجد:شکریہ لیکن مجھے بھی اس دن آپ کے اخلاق کا اندازہ ہوا آپ بھی اچھے اخلاق کی مالک ہیں.
نیلم:شکریہ اور نینا کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟
ماجد مسکراتے ہوئے اس دن انکا رویہ اچھا نہیں تھا لیکن مجھے لگتا ہے کے وہ دل کی اچهی ہیں باقی آپکی دوست ہے آپ جانتی ہونگی.
نیلم:ٹھیک کہا آپ نے نینا غصے کی تیز ہے جلد باز ہے ناسمجھ ہے پر دل کی بری نہیں..
ماجد:چلیں گی کینٹین میں چائے پینے میرے ساتھ اف یو ڈونٹ مائینڈ؟
نیلم:اوکے کیوں نہیں چلیں...
ماجد اور نیلم چلے گئے اور نینا دیکھتی رہ گئی.
نینا واپس کلاس روم گئ اور سوچ میں پڑ گئ کے نیلم کتنے مزے سے چلی گئی اور ماجد کے ساتھ اس دن میں نے برا کیا اور معافی بھی نہیں مانگی رشتہ نا کرنے کا بھی اسے کوئی غم نہیں اور وہ تو میری طرف دیکھتا بھی نہیں دونوں کتنے مزے سے کینٹین چلے گئے نیلم کو چائے پینے کا کہ رہا ہے اف مجهے کیوں تکلیف ہو رہی ہے لگتا ہی کیا ہے میرا پر نیلم کی بات ٹھیک تھی لڑکا اچھا ہے اور اس کا اخلاق بھی میں نے اس دن اسے کتنا بے عزت کیا پھر بھی اس نے میری تعریف کی اور اس کا دل کتنا صاف ہے مجھے معافی مانگنی چاہیے......
اگلے دن نینا اور نیلم کھڑی باتیں کر رہی تھیں..کے اتنے میں وہاں ماجد آگیا اسلام وعلیکم
نیلم:وعلیکم اسلام
نینا : وعلیکم اسلام
نینا دل ہی دل میں بولی یہی موقع ہے معافی مانگ لیتی ہوں..نینا یہ سوچ ہی رہی تھی کے ماجد بولا نیلم مجھے آپ سے ایک بہت ضروری بات کرنی ہے.
نیلم:جی کیا بات؟
ماجد:دراصل میں آپ سے دو منٹ اکیلے میں بات کرنا چاہتا ہوں ابھی نہیں تو پھر جب آپ فری ہوں.
نیلم:فری تو میں ابھی بھی ہوں پر نینا میری بیسٹ فرنڈ ہے اس سے میری کوئی بات نہیں چهپی آپ بولیں..؟
نینا فورا بولی کوئی بات نہیں نیلم میں سائیڈ پے چلی جاتی ہوں تم لوگ بات کرلو.
ماجد نینا کو روکتے ہوئے برا نا منائیں یہیں رہیں میں بات کر سکتا ہوں اور آپ اسکی بیسٹ فرنڈ ہیں.
نیلم:اچھا بولیں کیا بات ہے؟
ماجد:وہ دراصل بات یہ ہے کے...میں اب کیسے بتاؤں..
نیلم : کیوں خیر تو ہے؟
ماجد مسکراتے ہوئے جی بلکل خیر ہے بس وہ بات ہی ایسی ہے کے کنفیوز ہو رہا ہوں
نیلم:کھل کے بولیں مجھے سمجھ نہیں آرہی؟
ماجد: ویسے تو یہ بات کرنا مناسب ہوگا یا نہیں میں نہیں جانتا لیکن مجھے لگتا ہے کے آپ سے پوچھنا ضروری ہے وہ بات ایسی ہے کے میں نے آپ کو پروپوز کرنا تھا.کیا آپ مجھ سے شادی کریں گی؟
نینا کے تو یہ سن کر ہوش ہی اڑ گئے.
ماجد:جواب دیں؟
نیلم: شادی مم میں....
ماجد فورا بولا اگر آپکو میں پسند نہیں تو آپ صاف صاف بتا سکتی ہیں میں بلکل ناراض نہیں ہونگا میں پوچھنا ہی اس لیئے چاہتا تھا کے آپ کا جواب خود سن سکوں ورنہ اپنے والدین کو بهجوا دیتا جیسے نینا کا رشتہ لینے گئے تھے وہ لیکن نینا کی مرضی نا تھی اس لیئے میں ڈر گیا اور آپ مجھے بہت اچھی لگیں.
اور اگر آپکو سوچنے کا وقت چاہیئے تو میں انتظار کر لونگا.
نیلم: ماجد آپ بہت اچھے ہیں نینا نے جب انکار کیا تھا تو تب مجھے لگا اس نے غلطی کی تو بھلا میں کیوں یہ غلطی کرونگی..
نینا خاموش کھڑی سب سنتی رہی اور وہاں سے دوڑی دوڑی کلاس کی طرف چلی گئی.
ماجد:اسے کیا ہوا؟
نیلم:میں دیکھتی ہوں..
نینا کلاس میں بیٹھی رو رہی تھی نیلم وہاں پہنچی اور بولی کیا ہوا نینا رو کیوں رہی ہو؟
نینا روتی رہی
نیلم:کیا ہوا تمہیں؟
نینا آنسو پونچھتے ہوئے بولی میں خود نہیں جانتی کے کیا ہوا کیوں ہوا کب ہوا کیسے ہوا
نیلم:کیا مطلب کیا بولے جا رہی ہو؟
نینا : ماجد نے تمہیں پروپوز کیا تو مجھے اچھا نہیں لگا
نیلم:لیکن کیوں ؟ بہت ناپسند کرتی ہو اسے؟
نینا:نہیں بہت پسند کرتی ہوں پیار کرنے لگی ہوں اس سے جب سے اسے جانا ہے اور میں تو خود انجان تھی لیکن آج جب یہ احساس ہوا کے وہ کسی اور کا ہو جائے گا یا اسے تم پسند ہو تو اب. ...اب کیا کروں میری ہی غلطی ہے پہلے اسے منع کیا اور پھر اسی کو سوچنے لگی میں ہی پاگل ہوں. .
نیلم زور زور سے ہنسنے لگی نینا بولی میں رو رہی ہوں اور تم مجھ پر ہنس رہی ہو ہاں ہنسو تمہیں تو مل جائے گا وہ میں ہوں ہی پاگل جو ٹھکرایا اسے..
نیلم:اف میری ناسمجھ بھولی سہیلی میں جانتی تھی کے تم ماجد کو چاہنے لگی ہو تمہاری رگ رگ سے واقف ہوں میں تبہی تو مینے ماجد کو فورس کیا کے ایسا کرے حلانکہ وہ ایسا کرنا نہیں چاہتا تھا اور پگلی میں اسے اپنا بھائی اور وہ مجھے اپنی بہن سمجھتا ہے..تیری محبت کا احساس تجھے دلانا ضروری تھا کیونکہ ویسے تو تو مانتی نا انصاف پسند جو ٹہری پر وہ تیرا دیوانا اسکا کیا کرتی....جب سے نینا اس نے تمہاری تصویر دیکھی تب سے چاہتا ہے انکل نے دکھائی تھی. ..
نینا:کیا تم لوگوں نے ڈرامہ کیا؟
نیلم:یس میڈم
نینا : مطلب وہ پروپوزل جهوٹ تها؟
نیلم:ہاں..
نینا مسکرائی. .. اور تجھے کیسے پتا چلا مجھے تو خود ابھی احساس ہوا میری محبت کا
نیلم: نینا تمہارا ماجد کو دیکھتے رہنا خیالوں میں ڈوبا رہنا اور مجھے اور ماجد کو دور دور سے دیکھنا تمہاری وہ پچتاتی نگاہیں .... جانتی ہو محبت کرنے والوں کو بعد میں خبر ہوتی ہے پہلے زمانے کو پتا چل جاتا ہے اور پھر میں تو بیسٹ فرنڈ ہوں...
نینا ہنسنے لگی پھر پوچھا ماجد کہاں ہے ابهی آج مجھے اس سے معافی مانگی تھی. ......ماجد کی آواز آئی یہاں ہوں میں..
نیلم:اوکے میں چلی اب کباب میں ہڈی نہیں بننا چاہتی بائے.....نیلم کلاس سے نکل گئی دونوں کو اکیلا چھوڑکر.
ماجد نینا کے قریب گیا بولا آئی لو یو اور سوری اس ڈرامے کیلئے
نینا مسکرائی. ..سوری تو مجھے کہنا چاہیئے آیم سو سوری آئی لو یو ٹو...لیکن یہ پروپوزل صرف ایک ڈرامہ تھا یا تم اس یونیورسٹی میں میرے لیئے آئے؟
ماجد مسکرایا اٹس اوکے... پر پروپوزل صرف ڈراما تها یونیورسٹی آنا اتفاق تها کیونکہ شاید اللہ بھی ہمیں ملانا چاہتا تھا خیر مجھ سے شادی کروگی ؟
نینا:یہ بھی کوئی پوچھنے کی بات ہے. ..دونوں مسکرائے......
دونوں نے اپنے والدین کو سب کچھ سچ سچ بتایا اور دونوں کی شادی دھوم دھام سے ہوئی.......
نیلم کو شادی میں ماجد کے کذن عدنان نے پسند کر لیا اور اس کا رشتہ بھی بہت جلد طے ہوگیا نیلم بھی خوشحال زندگی بسر کرنے لگی اور نینا اور ماجد بھی خوشی خوشی رہنے لگے.....
دی اینڈ